نئی دہلی، 3/ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) منیش سسودیا اور کے. کویتا کے بعد سپریم کورٹ نے مبینہ دہلی آبکاری پالیسی گھوٹالے سے جڑے ایک منی لانڈرنگ معاملے میں عآپ کے سابق مواصلاتی امور کے انچارج وجئے نایر کو پیر کے روز ضمانت دے دی۔ کوآرڈنیشن بنچ کے ذریعہ مذکور ’ضمانت ضابطہ ہے، جیل استثنیٰ ہے‘ کے قانونی اصول کو مانتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے کہا کہ مقدمہ سے قبل جیل میں بند کرنا سزا نہیں ہو سکتی۔
جسٹس رشیکیش رائے اور جسٹس ایس وی این بھٹی کی بنچ نے کہا کہ نایر منی لانڈرنگ معاملے میں گزشتہ 22 ماہ سے جیل میں ہیں جہاں زائد از زائد سزا سات سال کی ہے۔ بنچ نے 12 اگست کو وجئے نایر کی ضمانت عرضی پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) سے جواب مانگا تھا۔
ایجنسی نے 13 نومبر 2022 کو نایر کو گرفتار کیا تھا۔ نایر نے ذیلی عدالت کے 29 جولائی کے حکم کو چیلنج پیش کیا تھا جس میں ان کی فطری ضمانت کی عرضی کو خارج کر دیا گیا تھا۔ دہلی ہائی کورٹ نے گزشتہ سال 3 جولائی کو منی لانڈرنگ معاملے میںنایر اور دیگر شریک ملزمین کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ منی لانڈرنگ کا معاملہ سی بی آئی کی ایک ایف آئی آر سے پیدا ہوا ہے، جو اب رد کر دی گئی دہلی آبکاری پالیسی 2021-22 کی تشکیل اور عمل درآمد میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے میں لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ کے ذریعہ کی گئی جانچ کی سفارش کے بعد درج کی گئی تھی۔